بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 109 از 194
حدیث نمبر: 9280 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9280]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شتیر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شتیر
حدیث نمبر: 9281 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِي عَبْدِ الرَّجُلِ، وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 9282 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ: " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيعُ الْخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ، وَمَعَهُ فِي السَّفِينَةِ قِرْدٌ، فَكَانَ يَشُوبُ الْخَمْرَ بِالْمَاءِ، قَالَ فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ، ثُمَّ صَعِدَ بِهِ فَوْقَ الذَّرْوِْ، وَفَتَحَ الْكِيسَ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ دِينَارًا فَيُلْقِهِ فِي السَّفِينَةِ، وَدِينَارًا فِي الْبَحْرِ حَتَّى جَعَلَهُ نِصْفَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندر نے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کے اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9282]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات ، والصواب وفقه
الحكم: رجاله ثقات ، والصواب وفقه
حدیث نمبر: 9283 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا مُبَقَّعَ الرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ایڑیوں کو خشک چھوڑ دیا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضوخوب اچھی طرح کرو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9283]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م : 242
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م : 242
حدیث نمبر: 9284 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، صَاحِبٌ لَنَا ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا صَوْمًا مُتَتَابِعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ وہ تسلسل کے روزوں میں شامل ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9284]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9285 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيِّ ، أَوْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي دُبُرِ صَلَاةِ الظُّهْرِ: " اللَّهُمَّ خَلِّصْ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَضَعَفَةَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً , وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ظہر کے بعد یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرماء جو کوئی حیلہ نہیں کرسکتے اور نہ راہ پاسکتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9285]
حکم دارالسلام
صحیح دون قوله : «دبر صلاۃ الظھر» ، خ : 6200 ، م : 675 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي ، و عبید الله لم نجد له ترجمة
الحكم: صحیح دون قوله : «دبر صلاۃ الظھر» ، خ : 6200 ، م : 675 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي ، و عبید الله لم نجد له ترجمة
حدیث نمبر: 9286 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ، يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ، ضَرَبَت الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وهُنَالِكَ يَهْلِكُ" ، وَقَالَ مَرَّةً:" صَرَفَت الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان (اور حکمت) یمن والوں میں بہت عمدہ ہے کفر مشرقی جانب ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9286]
حکم دارالسلام
صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، خ : 4388 ، م : 52 ، 1380
الحكم: صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، خ : 4388 ، م : 52 ، 1380
حدیث نمبر: 9287 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ صِيَامَهُ، فَلْيَصُمْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزے رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9287]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1914 ، م : 1082
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1914 ، م : 1082
حدیث نمبر: 9288 مسند احمد
قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9288]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 37 ، م : 759
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 37 ، م : 759
حدیث نمبر: 9289 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" . قَالَ عَفَّانُ : وَحَدَّثَنَا أَبَانُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9289]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 35 ، م : 760
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 35 ، م : 760
حدیث نمبر: 9290 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَكِيمٌ الْأَثْرَمُ ، أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَكِيمٌ الْأَثْرَمُ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ، فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی حائضہ عورت سے یا کسی عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرے یا کسی کاہن کی تصدیق کرے تو گویا اس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت سے برأت ظاہر کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9290]
حکم دارالسلام
حدیث محتمل للتحسین ، وھذا إسناد ضعیف لانقطاعه ، أبو تمیمة لا یعرف له سماع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث محتمل للتحسین ، وھذا إسناد ضعیف لانقطاعه ، أبو تمیمة لا یعرف له سماع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9291 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ حَمَّادٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ، ثُمَّ قَالَ حَمَّادٌ: أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، قَالَ الْمَلَكُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟. قَالَ: أَزُورُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ. قَالَ: هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟. قَالَ: لَا، إِلَّا أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جا رہا ہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جس کے پاس تم جا رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9291]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2567
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2567
حدیث نمبر: 9292 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِهَا، قَالَ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا". قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ". قَالُوا: وَكَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَأَنَا فَرَطهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ: سُحْقًا، سُحْقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں پھر فرمایا کہ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ سکیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور جن کا میں حوض کوثر پر منتظرہوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے جو امتی ابھی تک نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کا سفید روشن پیشانی والا گھوڑا کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچان سکے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر وہ لوگ بھی قیامت کے دن وضو کے آثار کی برکت سے روشن سفید پیشانی کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا انتظار کروں گا۔ پھر فرمایا یاد رکھو تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو بھگایا جاتا ہے میں انہیں آواز دوں گا کہ ادھر آؤ لیکن کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9292]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات
حدیث نمبر: 9293 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ بِالسُّوقِ، فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ وَانْتَهَرَهُمْ، فَقَالَ لَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ: لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ يقول، وَتُوُفِّيَتْ امْرَأَةٌ مِنْ كَنَائِنِ مَرْوَانَ، فَشَهِدَهَا مَرْوَانُ، فَأَمَرَ بِالنِّسَاءِ اللَّاتِي يَبْكِينَ , فَضُرِبْنَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ، فَإِنَّهُ مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، وَأَنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَانْتَهَرَ عُمَرُ اللَّاتِي يَبْكِينَ مَعَ الْجِنَازَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَإِنَّ الْعَهْدَ لَحَدِيثٌ" . قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلمہ بن ازرق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں وہاں سے جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آرہی تھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معیوب قرار دے کر انہیں ڈانٹا سلمہ بن ازرق کہنے لگے آپ اس طرح نہ کہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ گواہی دیتاہوں کہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی عورت مرگئی عورتیں اکھٹی ہو کر اس پر رونے لگیں مروان کہنے لگا کہ عبد الملک جاؤ اور ان عورتوں کو رونے سے منع کرو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ ابوعبد الملک رہنے دو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے بھی ایک جنازہ گذرا تھا جس پر رویا جارہا تھا میں بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے جنازے کے ساتھ رونے والی عورتوں کو ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9293]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، سلمة مجھول
الحكم: إسنادہ ضعیف ، سلمة مجھول
حدیث نمبر: 9294 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو كَثِيرٍ الْغُبَرِيُّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ الْغُبَرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: مِنَ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9294]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1985
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1985
حدیث نمبر: 9295 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بن جعفر ، شَيْخٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بن جعفر صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ البصرة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ، إِلَّا قَال اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو بندہ مسلم فوت ہوجائے اور اس کے تین قریبی پڑوسی اس کے لئے خیر کی گواہی دے دیں اس کے متعلق اللہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کی شہادت ان کے علم کے مطابق قبول کرلی اور اپنے علم کے مطابق جو جانتا تھا اسے پوشیدہ کر کے اسے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9295]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لإبھام الشیخ البصري
الحكم: إسنادہ ضعیف لإبھام الشیخ البصري
حدیث نمبر: 9296 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، غَيْرُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ : وَزَادَنِي غَيْرُ هَمَّامٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: " أَكْذَبُ النَّاسِ الصُّنَّاعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے صنعت کار (یا مزدور) ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9296]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
الحكم: إسنادہ ضعیف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9297 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ , وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9297]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1985
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1985
حدیث نمبر: 9298 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟". قَالَ: رُمْكٌ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أليسَ رُبمَّا جَاءَتْ بِالْبَعِيرِ الْأَوْرَقِ؟". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعَمْ. قَالَ:" فَأَنَّى تَرَى ذَلِكَ؟". قَالَ: أُرَاهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9298]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1985
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1985
حدیث نمبر: 9299 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِطَرِيقِ مَكَّةَ إِذْ هَاجَتْ رِيحٌ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: الرِّيحَ. قَالَ: فَلَمْ يَرُدُّوا إليه شَيْئًا. قَالَ: فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَلَغَنِي أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَسَلُوا خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جا رہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جا لیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیر طلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9299]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن