بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 119 از 194
حدیث نمبر: 9480 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أَحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب کو سواری مہیا کرسکوں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں، پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں، پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9480]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 36 ، م : 1876
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 36 ، م : 1876
حدیث نمبر: 9481 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ:" لَا تُطِيقُونَهُ" مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ: قَالُوا: أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِيقُهُ. قَالَ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِلَى أَهْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے (دو تین مرتبہ فرمایا) لوگوں نے عرض کیا کہ آپ بتا دیجئے شاید ہم کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو دن کو روزہ، رات کو قیام اور اللہ کی آیات کے سامنے عاجز ہو اور اس نماز روزے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے، یہاں تک کہ وہ مجاہد اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9481]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
حدیث نمبر: 9482 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا تَأْكُلُ مِنْ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کے وجہ سے داخل ہوگئی، جسے اس نے باندھ دیا تھا، خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9482]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3318 ، م : 2243
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3318 ، م : 2243
حدیث نمبر: 9483 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي رَزِينٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ , وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُنْ لَكُمُ الْمَهْنَأُ، وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ أني سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِي فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا" . رقم الحديث: 9279 " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَتَوَضَّأْ حَتَّى يَغْسِلَهَا سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورزین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ اے عراقی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کرسکتا ہوں؟ تم تو بلا مشقت ایک چیز حاصل کرلو اور مجھ پر اس کا وبال ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسری جوتی کو پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کروا لے۔ اور جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اس برتن سے اس وقت تک وضو نہ کرے جب تک اسے سات مرتبہ دھو نہ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9483]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2098
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2098
حدیث نمبر: 9484 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ"، قَالَ:" وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى، فَقَدْ لَغَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے پھر جمعہ کے لئے آئے امام کے قریب خاموش بیٹھ کر توجہ سے اس کی بات سنے تو اگلے جمعہ تک اور مزید تین دن تک اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور جو شخص کنکریوں سے کھیلتا رہا وہ لغو کام میں مشغول رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9484]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 857
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 857
حدیث نمبر: 9485 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أُهْدِيَتْ لِي ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ" ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ:" لَوْ أُهْدِيَتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9485]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5178
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5178
حدیث نمبر: 9486 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا، وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُؤَذِّنَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزُمُ الْحَطَبِ إِلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منافقین پر نماز عشاء اور نماز فجر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے لیکن اگر انہیں ان دونوں نمازوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ضرور ان نمازوں میں شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، میرا دل چاہتا ہے مؤذن کو اذان کا حکم دوں اور ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے، پھر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے جاؤں جن کے ہمراہ لکڑی کے گٹھے ہوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9486]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 657 ، م : 651
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 657 ، م : 651
حدیث نمبر: 9487 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي الْحَكَمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9487]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف من أجل أبي الحکم
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف من أجل أبي الحکم
حدیث نمبر: 9488 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے، اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9488]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6993 ، م : 2266
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6993 ، م : 2266
حدیث نمبر: 9489 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9489]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1933 ، م : 1155
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1933 ، م : 1155
حدیث نمبر: 9490 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ" ، قَالَ هِشَامٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت، کتا اور گدھا نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9490]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وقد وقع فیه اختلاف کبیر علی قتادۃ
الحكم: حدیث صحیح ، وقد وقع فیه اختلاف کبیر علی قتادۃ
حدیث نمبر: 9491 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ" ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَسْكُتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہردیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9491]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6970 ، م : 1419
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6970 ، م : 1419
حدیث نمبر: 9492 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: فَالشَّهِيدُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ: فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُعْطِي حَقَّ مَالِهِ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے جنت اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین تین گروہ پیش کئے گئے چنانچہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین گروہوں میں " شہید " وہ عبد مملوک جو اپنے رب کی عبادت بھی خوب کرے اور اپنے آقا کا بھی خیرخواہ رہے اور وہ عفیف آدمی جو زیادہ عیال دار ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی حفاظت کرے " شامل تھے اور جو تین گروہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوں گے ان میں حکمران جو زبردستی قوم پر مسلط ہوجائے شامل ہے نیز وہ مالدار آدمی جو مال کا حق ادانہ کرے اور وہ فقیر جو فخر کرتا پھرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9492]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لجھالة عامر العقیلي و أبیه
الحكم: إسنادہ ضعیف لجھالة عامر العقیلي و أبیه
حدیث نمبر: 9493 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يُنْقِصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطًا، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9493]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575
حدیث نمبر: 9494 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، أَنَّهُ خَافَ زَمَنَ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فقال: فَانْتَسَبَنِي , فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتَى , أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ؟، قُلْتُ: بَلَى، رَحِمَكَ اللَّهُ. قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ. ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ" . قَالَ يُونُسُ: وَأَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں انہیں خطرہ لاحق ہوا تو مدینہ منورہ آگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے نام و نسب پوچھا میں نے انہیں بتایا، وہ کہنے لگے کہ اے نوجوان کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جس سے اللہ تمہیں نفع پہنچائے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی پروردگار اپنے فرشتوں سے فرمائے گا " حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے " کہ میرے بندے کی نماز دیکھو، مکمل ہے ناقص! اگر مکمل ہوئی تو مکمل لکھ دی جائے گی اور نامکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے پاس نوافل بھی ہیں؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو اللہ فرمائے گا کہ میرے بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے مکمل کردو، اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9494]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أنس الضبي
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أنس الضبي
حدیث نمبر: 9495 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يؤْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9495]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 691 ، م : 427
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 691 ، م : 427
حدیث نمبر: 9496 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٍ ، الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ، أَوْ يَتَأَخَّرَ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ نماز پڑھتے وقت تھوڑا سا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہوجائے (تاکہ گذرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9496]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف جدا ، إبراھیم وحجاج مجھولان ، ولیث ضعیف
الحكم: إسنادہ ضعیف جدا ، إبراھیم وحجاج مجھولان ، ولیث ضعیف
حدیث نمبر: 9497 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا، فَقَدْ حُرِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیروبرکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9497]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، فیه أبو قلابة و روایته عن أبي ھریرۃ مرسلة
الحكم: حدیث صحیح ، فیه أبو قلابة و روایته عن أبي ھریرۃ مرسلة
حدیث نمبر: 9498 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9498]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2528 ، م : 127
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2528 ، م : 127
حدیث نمبر: 9499 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي مُصْعَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ: " الْإِيمَانُ يَمَانٍ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، رَأْسُ الْكُفْرِ الْمَشْرِقُ، وَالْكِبْرُ، وَالْفَخْرُ فِي الْفَدَّادِينَ: أَصْحَابِ الْوَبَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا یمن والوں کا ایمان بہت عمدہ ہے کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے اور غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9499]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 4388 ، م : 52
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 4388 ، م : 52