أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا، وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُؤَذِّنَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزُمُ الْحَطَبِ إِلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منافقین پر نماز عشاء اور نماز فجر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے لیکن اگر انہیں ان دونوں نمازوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ضرور ان نمازوں میں شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، میرا دل چاہتا ہے مؤذن کو اذان کا حکم دوں اور ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے، پھر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے جاؤں جن کے ہمراہ لکڑی کے گٹھے ہوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9486]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 657 ، م : 651
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 657 ، م : 651