أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي رَزِينٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ , وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُنْ لَكُمُ الْمَهْنَأُ، وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ أني سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِي فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا" . رقم الحديث: 9279 " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَتَوَضَّأْ حَتَّى يَغْسِلَهَا سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورزین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ اے عراقی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کرسکتا ہوں؟ تم تو بلا مشقت ایک چیز حاصل کرلو اور مجھ پر اس کا وبال ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسری جوتی کو پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کروا لے۔ اور جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اس برتن سے اس وقت تک وضو نہ کرے جب تک اسے سات مرتبہ دھو نہ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9483]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2098
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2098