بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 12 از 194
حدیث نمبر: 7339 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعامروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7340 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، قَالَ مَرَّةً: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمُ صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ، أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 1894، م : 1151 .
الحكم: إسناده صحيح، خ : 1894، م : 1151 .
حدیث نمبر: 7341 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526.
حدیث نمبر: 7342 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ، وَالسِّوَاكِ مَعَ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7343 مسند احمد
أَبَا الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تَصُومُ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا غَيْرَ رَمَضَانَ، إِلَّا بِإِذْنِهِ". وَقُرِئَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ: سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7343]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وله إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: حسن، خ: 5195، م: 1026.
الحكم: حديث صحيح، وله إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: حسن، خ: 5195، م: 1026.
حدیث نمبر: 7344 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَلَا يَتَخَلَّفُونَ عَنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان سب کو سواریاں مہیا کرسکوں اور کہیں وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے نہ ہٹنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م:1876.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م:1876.
حدیث نمبر: 7345 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ:" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْر".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے کیونکہ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7346 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والحديث رفعه ثابت دون شك، خ: 172، م: 279.
الحكم: إسناده صحيح، والحديث رفعه ثابت دون شك، خ: 172، م: 279.
حدیث نمبر: 7347 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ: لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و آله وسلم: «إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ»
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مكرر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وهو مكرر ماقبله.
حدیث نمبر: 7348 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ يَعْنِي عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتدا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح موقوفا، وهو صحيح مرفوعا، خ: 1426.
الحكم: إسناده صحيح موقوفا، وهو صحيح مرفوعا، خ: 1426.
حدیث نمبر: 7349 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأُ بِالْيَمِينِ وَ إِذَا خَلَعَ الْيُسْرَى وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاوں کی اتارے نیز یہ کہ اگر تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ پھرے بلکہ دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097.
حدیث نمبر: 7350 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا". وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مَرَّةً، فَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7350]
حکم دارالسلام
الحديث صحيح، على ما فيه من شك، فإن كان رواه بالإسناد الأول: فهو حسن، وإن كان رواه بالثاني: فهو صحيح، خ: 1689، م: 1322.
الحكم: الحديث صحيح، على ما فيه من شك، فإن كان رواه بالإسناد الأول: فهو حسن، وإن كان رواه بالثاني: فهو صحيح، خ: 1689، م: 1322.
حدیث نمبر: 7351 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا، فَضَرَبَهَا، قَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ"، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ! فَقَالَ:" فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ غَدًا غَدًا، وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ، وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ، إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ، فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا، فَطَلَبَهُ، فَأَدْرَكَهُ، فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ: يَا هَذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟" قَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ! فَقَالَ:" إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" وَمَا هُمَا ثَمَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ہماری طرف رخ کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا: کہ ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کر لئے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہو گیا اور اسے مارنے لگا وہ بیل قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا ہمیں اس مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں تو ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے لوگ کہنے لگے سبحان اللہ! کبھی بیل بھی بولتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ _x000D_ پھر فرمایا: کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیے نے ریوڑ پر حملہ کر دیا اور ایک بکری اچک کرلے گیا وہ آدمی بھیڑئیے کے پیچھے بھاگا اور کچھ دور جا کر اسے جا لیا اور اپنی بکری کو چھڑا لیا یہ دیکھ کر وہ بھیڑیا قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا کہ اے فلاں! آج تو تو نے مجھ سے اس بکری کو چھڑا لیا اس دن اسے کون چھڑائے گا جب میرے علاوہ اس کا کوئی چرواہانہ ہو گا؟ لوگ کہنے لگے سبحان اللہ کیا بھیڑیا بھی بولتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3471، م: 2388.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3471، م: 2388.
حدیث نمبر: 7352 مسند احمد
سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَامْرَأَةً وَابْنًا لَهُمَا، فَخَيَّرَ الْغُلَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا غُلَامُ، هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ، اخْتَرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی اور عورت اور ان دونوں کے بیٹے کو اختیار دیا اور لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا: اے لڑکے یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7353 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ اتَّبَعَهَا، حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ شَأْنِهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، أَصْغَرُهُمَا، أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا یا ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
حدیث نمبر: 7354 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُمَيٌّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ، إِلَّا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَتَانِ، أَوْ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفَّرُ مَا بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349.
حدیث نمبر: 7355 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ: دَرَكِ الشَّقَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ". قَالَ سُفْيَانُ: زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان تین چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے بدنصیبی ملنے سے دشمنوں کے ہنسی اڑانے سے برے فیصلے سے اور مصیبتوں کی مشقت سے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ ان میں ایک چیز کا اضافہ مجھ سے ہو گیا ہے معلوم نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7355]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6347، م: 2707.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6347، م: 2707.
حدیث نمبر: 7356 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ؟ فَقَالَتْ: الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّهُ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا مُتَطَيِّبَةً تُرِيدُ الْمَسْجِدَ، لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا صَلَاةً، حَتَّى تَرْجِعَ، فَتَغْتَسِلَ مِنْهُ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہو گیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اس سے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7356]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله.
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله.
حدیث نمبر: 7357 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ، فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ، قَالَ:" مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ"، وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ، قَالَ: فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ، يَعْنِي:" مَا مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ، إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوْ اثْنَانِ؟ قَالَ:" أَوْ اثْنَان".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! مردوں کی موجودگی میں ہم آپ کے پاس بیٹھنے سے محروم رہتی ہیں آپ ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر (دین سیکھ) سکیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کے گھر میں اکٹھی ہوجانا اور اس دن اس جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے منجملہ ان باتوں کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمائیں ایک بات یہ بھی تھی کہ تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہو جائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہو گی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2632.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2632.
حدیث نمبر: 7358 مسند احمد
سُفْيَانُ ، حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنائیے گا (جس کی پوجا شروع کر دیں) ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7358]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 437، م: 530.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 437، م: 530.