سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ؟ فَقَالَتْ: الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّهُ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا مُتَطَيِّبَةً تُرِيدُ الْمَسْجِدَ، لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا صَلَاةً، حَتَّى تَرْجِعَ، فَتَغْتَسِلَ مِنْهُ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہو گیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اس سے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7356]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله.
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله.