سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَمْرٌو ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَّا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْكَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصَةً مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کے بارے میں سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہارے حرص دیکھ رہا ہوں جو شخص خلوص دل کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8858]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد جيد ، خ: 6570
الحكم: صحيح، وهذا إسناد جيد ، خ: 6570