سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ، لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ". قَالَ سُفْيَانُ: يَكُونُ حَوْلَ بِئْرِكَ الْكَلَأُ، فَتَمْنَعُهُمْ فَضْلَ مَائِكَ، فَلَا يَعُودُونَ أَنْ يَدَعُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ راوی حدیث سفیان اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے کنوئیں کے پاس گھاس ہو اور آپ لوگوں کو زائد از ضرورت پانی لینے سے روکیں تو وہ لوگ اپنے جانور چرانے کے لئے وہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566.