مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا"، وَقَالَ لَهُمْ:" اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ". فَقَالُوا: إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، فَقَالَ:" اشْتَرُوا لَهُ فَأَعْطُوهُ"، فَقَالَ:" إِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ، أَوْ خَيْرُكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا اور اس میں سختی کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حقدار بات کرسکتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ خرید کرلے آؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ خرید کر دے دو، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601