أَبُو الْجَوَّابِ الضَّبِّيُّ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ الضَّبِّيُّ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالْحَدِيثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: " ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے دل میں ایسے وساوس اور خیالات آتے ہیں کہ انہیں زبان پر لانے سے زیادہ مجھے آسمان سے نیچے گر جانا محبوب ہے (میں کیا کروں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9156]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 132
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 132