إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبَا عُبَيْدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ أَبَا عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّهُ ليُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری دعاء ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ جلد بازی نہ کی جائے جلد بازی سے مراد یہ ہے کہ آدمی یوں کہنا شروع کردے کہ میں نے اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں وہ قبول ہی نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9148]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6340، م: 2735
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6340، م: 2735