سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا"، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تو نے وسعت والے اللہ کو پابند کر دیا تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا لوگ جلدی سے اس کی طرف دوڑے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے اس کے پیشاب کی جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7255]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 220.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 220.