أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَه , وَيُشَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ، وَإِنْ دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ، وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) چھینکے تو اس کا جواب دے (٣) دعوت دے تو قبول کرے (٤) بیمار ہو تو عیادت کرے (٥) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے (٦) پیٹھ پیچھے اس کی خیر خواہی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8271]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1240، م: 2162، فى هذا الإسناد ضعف، عبدالله فيه لين
الحكم: حديث صحيح، خ: 1240، م: 2162، فى هذا الإسناد ضعف، عبدالله فيه لين