بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 8292
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 8292
حدیث نمبر: 8292 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
َأَبُو عَامِرٍ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْيَمَامِيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنا َأَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْيَمَامِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا يَمَامِيُّ، لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِأَخِيهِ وَصَاحِبِهِ إِذَا غَضِبَ، قَالَ: فَلَا تَقُلْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ، كَانَ أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدًا فِي الْعِبَادَةِ، وَكَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلَى نَفْسِهِ، فَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى ذَنْبٍ، فَيَقُولُ: يَا هَذَا، أَقْصِرْ، فَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! قَالَ: إِلَى أَنْ رَآهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ، فَقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ، أَقْصِرْ، قَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قَالَ: أَحَدُهُمَا، قَالَ: فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، وَاجْتَمَعَا عنده، فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَكُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي خَازِنًا، اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، لَتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ضمضم بن جوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے یمامی کسی آدمی کے متعلق یہ ہرگز نہ کہنا کہ واللہ تیری بخشش کبھی نہیں ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ تو ہم میں سے ہر شخص غصہ کے وقت اپنے بھائی اور ساتھی سے کہہ دیتا ہے؟ فرمایا لیکن تم پھر بھی نہ کہنا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار تھا اور دوسرا بہت بدکار وگناہگار تھا عبادت گذار نے گناہگار سے یہ کہہ دیا کہ واللہ تیری کبھی بخشش نہ ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان دونوں کے پاس ملک الموت کو بھیجا اور اس نے دونوں کی روح قبض کرلی اور وہ دونوں اللہ کے حضور اکٹھے ہوئے اللہ نے گناہگار سے فرمایا کہ تو میرے رحم و کرم سے جا اور جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا کیا تو میرے فیصلوں کو جانتا تھا؟ کیا تو میرے قبضے میں موجود ہوگیا تھا؟ اسے جہنم میں لے جاؤ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اس نے صرف ایک کلمہ ایسا بولا جس نے اس کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8292]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ومتنه غريب، تفرد به عكرمة، وقد روى أحاديث غرائب
الحكم: إسناده حسن ومتنه غريب، تفرد به عكرمة، وقد روى أحاديث غرائب
← پچھلی حدیث (8291) باب پر واپس اگلی حدیث (8293) →