أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَبِّئْنِي بِأَحَقِّ النَّاسِ مِنِّي صُحْبَةً، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ"، قَالَ: مَنْ؟، قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" أَبُوكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا تمہیں اس کا جواب ضرور ملے گا اس نے کہا کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہارے والد۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9081]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548