بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 9091
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 9091
حدیث نمبر: 9091 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنُ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام مِنْهُ الْحَيَاءُ وَالسِّتْرُ، وَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ، فَطَعَنُوا فِيهِ بِعَوْرَةٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ يَوْمًا، وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ، فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ بِثِيَابِهِ، فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ، وَهُوَ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ، ثَوْبِي يَا حَجَرُ، حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَتَوَسَّطَهُمْ، فَقَامَتْ، وَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ , فَنَظَرُوا، فَإِذَا أَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلُهُمْ صُورَةً، فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ: قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شرم حیاء کی وجہ سے تنہا غسل فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان کی شرم گاہ میں عیب لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے قریب پہنچ کر وہ پتھر رک گیا ان کی نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ پر پڑگئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے اور صورت کے اعتبار سے انتہائی حسین اور معتدل ہیں اور وہ کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد پر اللہ کی مار ہو اس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بری کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9091]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 278، م: 339، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 278، م: 339، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، لكنه توبع
← پچھلی حدیث (9090) باب پر واپس اگلی حدیث (9092) →