عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَبِي ، مِينَاءُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنَا مِينَاءُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ حِمْيَرَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: الْعَنْ حِمْيَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ، أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ، وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ، أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کیجیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا وہ دوسری جانب سے سامنے آیا اور پھر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعراض کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ قبیلہ حمیر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ان کی زبانوں پر سلام اور ہاتھوں میں (دوسروں کے لئے) طعام ہوتا ہے اور یہ امن و ایمان والے لوگ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7745]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، ميناء متروك.
الحكم: إسناده ضعيف جدا، ميناء متروك.