يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں چھپائی گئی ہیں " اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لمبے اور طویل سائے میں ہوں گے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں تم میں سے کسی ایک کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی " جس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9649]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824