يَحْيَى ، مُحَمَّدُ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ أَحَدُكُمْ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ أَفْطِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عیدالفطر مناؤ اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزہ رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9654]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082