مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا وَقُلْنَا: مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ! فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8765]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، مؤمل سيئ الحفظ، وأبو المهزم متروك الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً، مؤمل سيئ الحفظ، وأبو المهزم متروك الحديث