حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا: يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ، قَالَ: وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" هَذَا غُلَامُكَ"، قُلْتُ: هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ، فَأَعْتَقْتُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں یہ شعر پڑھتا جاتا تھا اگرچہ یہ رات کٹھن اور لمبی ہے لیکن ہے پیاری۔ کیونکہ اسی نے مجھے دارالکفر سے نجات دلائی ہے۔ میرا ایک غلام راستے میں میرے پاس سے بھاگ گیا تھا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کرلی ابھی میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ میرا غلام آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوہریرہ! یہ تمہارا غلام ہے میں نے عرض کیا کہ یہ اللہ کے راستہ میں آزاد ہے چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2530.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2530.