وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اسْتَهِمَا فِيهِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِلِابْنِ:" اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ". فَاخْتَارَ أُمَّهُ فَذَهَبَتْ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت جسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ اپنا بچہ لینا چاہتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرعہ اندازی کرلو بچے کا باپ کہنے لگا کہ میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا اے لڑکے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے اس نے اپنی ماں کو ترجیح دی اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1378
الحكم: إسناده صحيح، م: 1378