وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ شَحِيحٌ، أَوْ صَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْحُلْقُومِ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقروفاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032