ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أخبرنا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ:" إِنَّكُمْ لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي، إِنَّ اللَّهَ حِبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ". وَقَالَ يَزِيدُ:" إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7548]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ، 1966، م: 1103.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ، 1966، م: 1103.