بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 9901
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 9901
حدیث نمبر: 9901 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ؟" , قَال: قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَه؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ بَهَتَّه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9901]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2589
الحكم: إسناده صحيح، م: 2589
← پچھلی حدیث (9900) باب پر واپس اگلی حدیث (9902) →