عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ الشَّمْسَ بِنِصْفِ النَّهَارِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرَوُنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا نصف النہار کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو سورج کو دیکھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم رات کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو " چودھویں کا چاند دیکھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم اپنے پروردگار کا دیدار ضرور کروگے اور تمہیں اسے دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت نہیں ہوگی جیسے چاند اور سورج کو دیکھنے میں نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9058]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 6573، م: 182
الحكم: إسناده قوي، خ: 6573، م: 182