مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ قَطُّ؟" قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ:" حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، قَالَ:" فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ قَطُّ؟" قَالَ: وَمَا هَذَا الصُّدَاعُ؟ قَالَ:" عِروْقٌ تَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، قال: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کبھی تمہیں ام ملدم نے اپنی گرفت میں لیا ہے؟ اس نے کہا کہ ام ملدم کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا جسم اور گوشت کے درمیان حرارت کا نام ہے اس نے کہا کہ میں نے تو اپنے جسم میں کبھی یہ چیز محسوس نہیں کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی صداع نے پکڑا ہے؟ اس نے پوچھا کہ صداع سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ رنگیں جو انسان کے سر میں چلتی ہیں (اور ان کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے) اس نے کہا کہ میں نے اپنے جسم میں کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں کی جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس شخص کو دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8395]
حکم دارالسلام
إسناده حسن وفي متنه نكارة
الحكم: إسناده حسن وفي متنه نكارة