عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَيْسٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ، حَتَّى يَكُونَ أَبَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ أو َيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تُنْتِجُونَ أَنْعَامَكُمْ، هَلْ تَكُونُ فِيهَا جَدْعَاءُ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا"، قَالَ رَجُلٌ: فَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" ، قَالَ قَيْسٌ: مَا أَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا كَانَ قَدَرِيًّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تمہارے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ بعد میں تم خود ہی اس کی ناک کاٹ دیتے ہو ایک آدمی نے پوچھا کہ یہ بچے کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8562]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1358 ، م : 2658
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1358 ، م : 2658