عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ، فَكَانَ أَهْلُ الشَّام، يَمُرُّونَ بِأَهْلِ الصَّوَامِعِ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ، فَسَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سہل بن ابی صالح رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوا (میں نے دیکھا کہ) شام کے لوگ جب کسی گرجے کے لوگوں پر گذرتے تو انہیں سلام کرتے میں نے اس موقع پر اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8561]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2167
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2167