عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أُمْطِرَ أَوْ تَسَاقَطَ عَلَى أَيُّوبَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا أَيُّوبُ، أَفَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ؟ قَالَ: بَلَى! وَلَكِنِّي لَا غِنَى بِي عَنْ فَضْلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8569]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 279
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 279