عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُ يَتَّقُونَ بِكُلِّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ" ، قَالَ عَفَّانُ:" يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تین اصناف کی صورت میں جمع ہوں گے ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہوگی ایک قسم سواروں کی ہوگی اور ایک قسم چہروں کے بل چلنے والوں کی ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! لوگ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ فرمایا جو ذات انہیں پاؤں پر چلاتی ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قاد رہے اس لئے انہیں ہر پھسلن اور کانٹے سے اپنے چہروں کو بچانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8755]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وجهالة أوس
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وجهالة أوس