زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، الْقَاسِمَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ مَوْلَى يَزِيدَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے آدم اگر تو اپنی ضرورت سے زائد چیز کسی کو دے دے تو وہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اپنے پاس روک کر رکھے تو تیرے حق میں ہی برا ہے اور ان لوگوں سے ابتداء کر جو تیری ذمہ داری میں ہیں اور اللہ بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں کرتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8743]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن