مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا لَمَمٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي، قَالَ: " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكِ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي، وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ"، قَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اسے مرگی کا دورہ پڑتا تھا وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے لئے دعاء کیجئے کہ وہ مجھے شفاء عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو کہ میں اللہ سے تمہارے لئے شفاء کی دعا کر دوں تو میں دعاء کردیتا ہوں اور اگر چاہو تو دنیا میں اس تکلیف پر صبر کرلو آخرت میں تمہارا کوئی حساب نہ ہوگا اس عورت نے کہا کہ پھر تو میں صبر ہی کرلوں گی تاکہ میرا حساب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9689]
الحكم: إسناده حسن