مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، دَاوُدُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، الْأَجْوَفَانِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَجْوَفَانِ؟، قَالَ" الْفَرْجُ، وَالْفَمُ". قَالَ:" أَتَدْرُونَ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللَّهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دو جوف دار چیزوں سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منہ اور شرم گاہ کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9696]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، داود ضعيف لكنه قد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، داود ضعيف لكنه قد توبع