يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: " انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ"، وَقَالَ: فَانْطَلَقُوا بِهِ، فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ وَاشْتَدَّ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فِي يَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ، فَضَرَبَهُ بِهِ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ , قَالَ:" فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیرلیا انہوں نے دائیں جانب سے آ کر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا پھر بائیں جانب سے آ کر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ انہیں لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9809]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6815، م: 1691
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6815، م: 1691