يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ: " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گذرے جس کی کھال اتری ہوئی تھی اور وہ خارش زدہ تھی اسے اس کے مالکوں نے نکال پھینکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ اپنے مالکوں کی نظر میں حقیر ہوگئی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اللہ کی نگاہوں میں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکوں کی نگاہ میں حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8464]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه