يَحْيَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهَا دِينَارَانِ، فَأَخَذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ، وَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا، وَلَفَّ عَلَيْهِمَا، فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ، فَوَجَدُوا الدِّينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَيَّتَان" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے غزوہ خیبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اسے دو دینار اپنے حصے میں سے ملے اس نے انہیں لے کر اپنی عباء میں رکھ کر سی لیاجب وہ فوت ہوا تو لوگوں کو وہ دو دینار ملے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8678]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة