سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الزُّهْرِيُّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَكَانَ مِنَ الْقَارَةِ، وَهُوَ حَلِيفٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شُقَّتْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تعمیر مسجد کے لئے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کام میں ان کے ساتھ شریک تھے اسی اثناء میں میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیٹ پر اینٹ رکھی ہوئی ہے میں سمجھا کہ شاید اٹھانے میں دشواری ہو رہی ہے اس لئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ مجھے دے دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ دوسری اینٹ لے لو کیونکہ اصل زندگانی تو آخرت کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8951]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن عبدالله لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، ابن عبدالله لم يسمع من أبي هريرة