بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 8950
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 8950
حدیث نمبر: 8950 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ سَأَلَهُمْ: " أعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" تَرَكَ وَفَاءً؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِلَّا قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوچھتے کہ اسے اداء کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھادیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
← پچھلی حدیث (8949) باب پر واپس اگلی حدیث (8951) →