أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، الْأَغَرِّ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآَخِرُ، إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَه؟" حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" . فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے اسی وجہ سے وہ لوگ رات کے پہلے حصے کی بجائے آخری حصے میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.