بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 7376
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 7376
حدیث نمبر: 7376 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرُ، أو العصر وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، وَقَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ، فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قُصِرَتْ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فهاباهُ أَن يُكلِّماه، فقِال ذو اليَدينِ: أي رسولَ الله، قُصِرَتِ الصَّلاةُ أَم نَسِيتَ؟ قَالَ:" مَا قُصِرَتْ، وَمَا نَسِيتُ"، قَالَ: فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسَجْدَتِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوپہر کی دو میں سے کوئی ایک نماز ظہر یا عصر، غالب گمان کے مطابق پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی اس پر ذوالیدین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں ذو الیدین نے کہا آپ نے تو دو رکعتیں پڑھی ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی اور بیٹھ گئے، پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
← پچھلی حدیث (7375) باب پر واپس اگلی حدیث (7377) →