عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز اور سلام میں " اغرار " بالکل نہیں ہے امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعمروالشیبانی رحمہ اللہ سے اس حدیث کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ لفظ اغرار نہیں بلکہ غرار ہے اور غرار کا معنی امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ انسان کو جب تک نماز کے مکمل ہوجانے کا یقین کامل نہ ہوجائے اور اس کا یہ گمان ہو کہ نماز کا کچھ حصہ باقی ہے اس وقت تک نماز سے خارج نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9936]
الحكم: إسناده صحيح