رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ! فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادہ معزز تھا لیکن اس نے چھینکے کے بعد الحمد اللہ نہیں کہا لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا اور دوسرے نے الحمد اللہ کہا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جواب دے دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو أپ نے اسے جواب دے دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے اللہ کو یاد کیا تھا چنانچہ میں نے بھی اسے یاد رکھا اور تم نے اسے بھلا دیا لہذا میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8346]
الحكم: إسناده حسن