أَبُو النَّضْرِ ، الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51 , وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172 . ثُمَّ ذَكَرَ: " الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ، يَا رَبّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگو! اللہ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیزوں ہی کو قبول کرتا ہے اور اس نے عام مسلمانوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو پیغمبروں کو دیا ہے چنانچہ ارشاد ہے اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھایا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کر کے آیا ہو اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں گرد و غبار سے وہ اٹا ہوا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر یا رب یا رب کر رہا ہو جبکہ اس کا کھانا بھی حرام کا ہو پینا بھی حرام کا ہو لباس بھی حرام کا ہو اور اس کی غذا بھی حرام کی ہو تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8348]
الحكم: إسناده حسن