أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: ثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ، فَإذا نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قِيلَ: لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي، فَيَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ، فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ , قَالَ: فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب عبد مملوک سے نماز کا حساب ہوگا اور اس میں کچھ کمی واقع ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اس میں کوتاہی کیوں کی؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار تو نے مجھ پر ایک مالک مسلط کر رکھا تھا جس نے مجھے نماز سے روکے رکھا اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھے اس کے مال میں سے اپنے لئے کچھ چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا تو کیا اپنے لئے اس کا عمل نہیں چوری کرسکتا تھا؟ اس طرح اس پر حجت تمام ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8353]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المبارك مشهور بالتدليس وقد عنعنه ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، المبارك مشهور بالتدليس وقد عنعنه ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة