أَبُو النَّضْرِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے۔ آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8352]
الحكم: إسناده حسن