بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 55 از 109
حدیث نمبر: 13022 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ فَرَغْتُ مِنْ خِدْمَتِهِ قُلْتُ: يَقِيلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ إِلَى صِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ، قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى الصِّبْيَانِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ، فَذَهَبْتُ فِيهَا، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُهُ، وَاحْتَبَسْتُ عَنْ أُمِّي عَنِ الْإِتْيَانِ الَّذِي كُنْتُ آتِيهَا فِيهِ، فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، قَالَتْ: وَمَا هِيَ؟ قُلْتُ: هُوَ سِرٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَاحْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَ ثَابِتٌ: فقَالَ لِي أَنَسٌ: لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَوْ لَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهِ لَحَدَّثْتُكَ بِهِ يَا ثَابِتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے " سلام کیا اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13022]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2482، وانظر: 12724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2482، وانظر: 12724
حدیث نمبر: 13023 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي فَقَالَ:" أَصْلِحِيهَا" قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ" قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضْلِ السَّوِيقِ، وَبِفَضْلِ السَّمْنِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ، قَالَ وَصَفِيَّةُ: خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا، قَالَ: فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ، قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ:" لَمْ تُضَرَّ" قَالَ: فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی تمنا کے عوض انہیں خرید کر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر سے نکلے تو انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھالیا۔ صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد توشہ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے، چنانچہ لوگ زائد کھجوریں، ستو اور گھی لانے لگے، پھر انہوں نے اس کا حلوہ بنایا اور وہ حلوہ کھایا اور قریب کے حوض سے پانی پیا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر ہم روانہ ہوگئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین پر گرگئے، کسی شخص نے بھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے اور فرمایا کوئی نقصان نہیں ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوگئے، بچیاں نکل نکل کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگیں اور ان کے گرنے پر ہنسنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13023]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، م: 1365
حدیث نمبر: 13024 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً، مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ، حِينَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فِي مَقْسَمِهِ، فَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح کسابقہ، وانظر ما قبلہ
الحكم: إسناده صحيح کسابقہ، وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13025 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ:" اذْهَبْ فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ" قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَاهَا، قَالَ: وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهَا قال هاشم: حينَ عرفتُ أن النبي صلى الله عليه و آله وسلم خَطَبَها فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي، وَرَكَضْتُ عَلَى عَقِبَيَّ، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ، قَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا، وَنَزَلَ يَعْنِي الْقُرْآنَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُطْعِمْنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ، فَجَعَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ، فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ... وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53.
حدیث نمبر: 13026 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا: لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ، قَالَ: فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً، فَأَكَلَ وَشَرِبَ، قَالَ: ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَوَقَعَ بِهَا، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ، وَأَصَابَ مِنْهَا، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ، وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ، أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا" قَالَ: فَحَمَلَتْ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ، وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ، وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَبِّ، إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ، وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ، وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى، قَالَ: تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ، فَانْطَلَقْنَا، قَالَ: وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا أَنَسُ، لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ احْتَمَلْتُهُ وَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيْسَمٌ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ:" لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَضَعَ الْمِيسَمَ، قَالَ: فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ، فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ" قَال: فَمَسَحَ وَجْهَهُ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہوچکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد رات کے وقت مدینہ میں داخل نہیں ہوتے تھے، وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو درد کی شدت نے ستایا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ رک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے گئے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات بڑی محبوب ہے کہ تیرے رسول جب مدینہ سے نکلیں تو میں ان کے ساتھ نکلوں اور جب داخل ہوں تو میں بھی داخل ہوں اور اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں کیسے رک گیا ہوں، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابوطلحہ! اب مجھے درد کی شدت محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا ہم روانہ ہوگئے اور مدینہ پہنچ کر ان کی تکلیف دوبارہ بڑھ گئی اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں، ایک کجھور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5470 م: 2144
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5470 م: 2144
حدیث نمبر: 13027 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ، مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ أَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَلِحْيَانَ، وَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے انہیں شہید کردیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1300 م:677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1300 م:677
حدیث نمبر: 13028 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، وَهُوَ يَتَبَسَّمُ، قَالَ: وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ، ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ، فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى، فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِي رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ، يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ: يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑجاتے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 754 م:419
الحكم: إسناده صحيح، خ: 754 م:419
حدیث نمبر: 13029 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 680 م:419 وانظر ما قبلہ
الحكم: إسناده صحيح، خ: 680 م:419 وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13030 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حتى إذا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، وَهُمْ صُفُوفٌ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبلہ
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13031 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رونے لگیں اور کہنے لگیں ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہوگئے، ہائے اباجان! جبرائیل علیہ السلام کو میں آپ کی رخصتی کی خبر دیتی ہوں، ہائے اباجان! آپ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13031]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4462
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4462
حدیث نمبر: 13032 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ، فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا شِغَارَ، وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا جَنَبَ، وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، اس پر عورتوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! زمانہ جاہلیت میں کچھ عورتوں نے ہمیں پر سہ دیا تھا، کیا ہم انہیں اسلام میں پر سہ دے سکتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں، نیز اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حٰثیت نہیں، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں، زکوٰۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوٰۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13032]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وسلف النھی عن النھبۃ برقم:12422
الحكم: إسناده صحيح، وسلف النھی عن النھبۃ برقم:12422
حدیث نمبر: 13033 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي السَّحَرِ:" يَا أَنَسُ، إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا" قَالَ: فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ" يَا أَنَسُ، انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي" قَالَ: فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ" فَتَسَحَّرَ مَعَهُ، ثم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلا دو، میں کچھ کھجوریں اور ایک برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا، اس وقت تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دے چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انس! کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے، چنانچہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کرلے آیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے ستوؤں کا شربت پیا ہے اور میرا ارادہ روزہ رکھنے کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا بھی ارادہ روزہ رکھنے ہی کا ہے، پھر دونوں نے اکٹھے سحری کی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور باہر نکل آئے اور نماز کھڑی ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر :12739
الحكم: إسناده صحيح، وانظر :12739
حدیث نمبر: 13034 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، لَا وَاللَّهِ مَا سَبَّنِي سَبَّةً قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَهُ؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَّا فَعَلْتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ: 2768 م: 2309
الحكم: إسناده صحيح،خ: 2768 م: 2309
حدیث نمبر: 13035 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 2 مَرْجِعَنَا مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ" ثُمَّ قَرَأَهَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ، فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا؟ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ حَتَّى بَلَغَ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5.
حدیث نمبر: 13036 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، قال: حَدَّثَنَي مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، يَخْرُجُ مِنْهُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، سِيمَاهُمْ الْحَلْقُ وَالتَّسْبِيتُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ"، التَّسْبِيتُ: يَعْنِي اسْتِئْصَالَ الشَّعْرِ الْقَصِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کا شعار منڈوانا اور چھوٹے بالوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہوگا، تم انہیں جب دیکھو تو قتل کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13037 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةً حَسَنَةً لَمْ يُطَوِّلْ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انہوں نے عمدہ طریقے سے نماز پڑھائی اور اسے زیادہ لمبا نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر :12654
الحكم: إسناده صحيح، وانظر :12654
حدیث نمبر: 13038 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحُلِبَ لَهُ دَاجِنٌ فَشَابُوا لَبَنَهَا بِمَاءِ الدَّارِ، ثُمَّ نَاوَلُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ عِنْدَكَ، وَخَشِيَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ:" الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13038]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2352، م: 2029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2352، م: 2029
حدیث نمبر: 13039 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" أَثْنُوا عَلَيْهَا" فَقَالُوا: كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ" ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ:" أَثْنُوا عَلَيْهَا" فَقَالُوا: بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2642، م: 949
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2642، م: 949
حدیث نمبر: 13040 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَرَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مَرْوَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مَرْوَانَ مَوْلَى هِنْدِ ابْنَةِ الْمُهَلَّبِ، قَالَ رَوْحٌ أَرْسَلَتْنِي هِنْدٌ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَقُلْ روْحٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوِصَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان " جو کہ ہند بنت مہلب کے آزاد کردہ غلام تھے " کہتے ہیں کہ مجھے ہند نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے کسی کام سے بھیجا تو میں نے انہیں اپنے ساتھیوں کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال (بغیر افطاری کے مسلسل کئی دن روزہ رکھنے) سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر :12248
الحكم: إسناده صحيح، وانظر :12248
حدیث نمبر: 13041 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:" مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اکیس آدمیوں کو قتل کر کے ان کا سامان حاصل کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13041]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وھذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وھذا إسناد حسن