بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 26 از 109
حدیث نمبر: 12441 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الْأَصَمِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، قَالَ: فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟!، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا، أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2072
الحكم: إسناده صحيح، م: 2072
حدیث نمبر: 12442 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، سُهَيْلٌ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ أَخُو حَزْمٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56، قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ:" أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى، فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ، فَمَنْ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا، كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ".
حدیث نمبر: 12443 مسند احمد
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12443]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3187
حدیث نمبر: 12444 مسند احمد
عفان ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عفان ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذَا ابْنُ آدَمَ، وَهَاهُنَا أَجَلُهُ، وَثَمَّ أَمَلُهُ" , وَقَدَّمَ عَفَّانُ يَدَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے اور اس کی امیدیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12444]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12238
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12238
حدیث نمبر: 12445 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" لَا يُجَاوِزُ شَعَرُهُ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12445]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12118
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12118
حدیث نمبر: 12446 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ، حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12446]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 213
الحكم: إسناده صحيح، خ: 213
حدیث نمبر: 12447 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ قَدِمُوا مَكَّةَ وَقَدْ لَبَّوْا بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا طَافُوا بِالْبَيْتِ، وَسَعَوْا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، أَنْ يُحِلُّوا، وأن يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، وَكَأنَّ الْقَوْمُ هَابُوا ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ"، فَأَحَلَّ الْقَوْمُ وَتَمَتَّعُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تو حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو میں بھی احرام کھول لیتا، چنانچہ وہ لوگ حلال ہوگئے اور انہوں نے حج تمتع کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12447]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 11958
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 11958
حدیث نمبر: 12448 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، شُعْبَةُ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبِي قُدَامَةَ الْحَنَفِيِّ ، لِأَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ؟، قَالَ:" سَمِعْتُهُ سَبْعَ مِرَارٍ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ , بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو واقد حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا " لبیک عمرۃ و حجۃ "۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12448]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 11958
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 11958
حدیث نمبر: 12449 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حُمَيْدًا الطَّوِيلَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کجھور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12450 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ، حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ"، فَجَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سمحاء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس کے یہاں گھنگریالے بالوں، سرمگیں آنکھوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ شریک بن سمحاء کا بچہ ہوگا اور اگر گورے رنگ کا، سیدھے بالوں والا اور دھنسی آنکھوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا، چنانچہ اس عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ پہلی صفات کے مطابق تھا (شریک بن سمحاء کا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1494
الحكم: إسناده صحيح، م: 1494
حدیث نمبر: 12451 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا، وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو پکڑتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ ان کی دعاؤں کے وقت موجود رہے اور دونوں کے ہاتھوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12451]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12452 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! مکہ میں جنتنی برکتیں ہیں، مدینہ میں اس سے دوگنی برکتیں عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1885، م: 1369
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1885، م: 1369
حدیث نمبر: 12453 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ، إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ، قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی جماعت اکٹھی ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے اور اس سے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ تم اس حال میں کھڑے ہو کہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے اور میں نے تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12453]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12454 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنَ النَّاسِ، انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِهِمْ، فَأَخَذَتْهُمْ السَّمَاءُ، فَدَخَلُوا غَارًا، فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ مِنْهُ حُصَاصَةً، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ، فَادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِي وَالِدَانِ، فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا فَآتِيهُمَا، فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا، حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا، قَالَ: فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ، فَزَبَرْتُهُ، فَانْطَلَقَ فَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا، قَالَ: فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ، فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَفَّرَ لَهَا نَفْسَهَا، وَسَلَّمَ لَهَا جُعْلَهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ، وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا، فَزَالَ الْحَجَرُ، وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَتَمَاشَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہوگیا، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے اللہ سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر) دیا کرتا تھا، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں) دیر ہوگئی، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا (اس لئے بڑا حیران ہوا) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ (نہ کھانے سے) کمزوری ہوجائے اور صبح تک میں ان کی (آنکھ کھلنے کے) انتظار میں (کھڑا) رہا، الٰہی! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ (پیمانہ بھر) چاول لے کر بو دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں، الٰہی! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے، چنانچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے، الٰہی! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12455 مسند احمد
أَبُو بَحْرٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12456 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12457 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ، فَيَسْأَلُهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟، قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟، قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟، قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا، قَالَ:" نَعَمْ صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کردی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر دان رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آب کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے (بتایئے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر کعبہ کا حج فرض ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا! آخر کار وہ بدوی پیٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 12
الحكم: إسناده صحيح، م: 12
حدیث نمبر: 12458 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٌ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ لَهَا:" اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي"، فَقَالَتْ لَهُ: إِليكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي، قَالَ: وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ:" إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کی کسی خاتون سے فرمایا کہ تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، وہ کہنے لگی کہ مجھ سے پیچھے ہی رہو تمہیں میری مصیبت کا کیا پتہ، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہچان نہ سکی، کسی نے بعد میں اسے بتایا کہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، یہ سن کر اس پر موت طاری ہوگئی اور فوراً نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، وہاں اسے کوئی دربان نظر نہ آیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7154، م: 926
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7154، م: 926
حدیث نمبر: 12459 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 888
الحكم: إسناده صحيح، خ: 888
حدیث نمبر: 12460 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حُمَيْدًا الطَّوِيلَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھجور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12460]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح