بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 96 از 109
حدیث نمبر: 13842 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13842]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6644، م: 425
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6644، م: 425
حدیث نمبر: 13843 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ مَعَهُ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَقَبَضَ قَبْضَةً، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، ذَكَرَهُ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَكَلَ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْرَفُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں اور اس سے معلوم ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس وقت ان کی تمنا تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13844 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ:" أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا"؟ قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا، حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ، فَقَالَ: اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13845 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، بَهْزٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ بَهْزٌ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كَانَتْ نَعْلُهُ لَهَا قِبَالَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5857
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5857
حدیث نمبر: 13846 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
حدیث نمبر: 13847 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي، قَالَ: قَالَ لَعُمَرَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْتُ سَاعَةً، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي، قَالَ: قَالَ: لِعُمَرَ، قَالَ: وَإِنَّ فِيهِ لَمِنْ الْحُورِ الْعِينِ يَا أَبَا حَفْصٍ، وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ"، قَالَ: فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا عَلَيْكَ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں گھوم رہا تھا کہ ایک محل پر پہنچ کر رک گیا، میں نے پوچھا جبریل! یہ محل کس کا ہے؟ میرا خیال تھا کہ ایسا محل تو میرا ہوسکتا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ عمر کا ہے، تھوڑی دور اور آگے چلا تو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ایک اور محل آیا، میں نے پوچھا جبرائیل یہ کس کا ہے؟ اس مرتبہ بھی میرا یہی خیال تھا کہ ایسا محل تو میرا ہوسکتا ہے، لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ بھی عمر ہی کا ہے اور اے ابوحفص! اس میں ایک حورعین بھی تھی، مجھے تمہاری غیرت کے علاوہ اس میں داخل ہونے سے کسی چیز نہیں روکا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں یہ سن کر ڈبڈبا گئیں اور وہ کہنے لگے کہ آپ پر تو میں کسی طرح اپنی غیرت مندی کا اظہار نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13848 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةٌ ، عَفَّانُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةٌ ، قَالَ: عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ"، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ هَمَّامٌ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَزَادَ مَعَ هَذَا الْكَلَامِ: أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14.
حدیث نمبر: 13849 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، ثَابِتٌ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ"، قَالَ عَفَّانُ: فَسَأَلْتُ حَمَّادًا، فَحَدَّثَنِي بِهِ، وَذَهَبَ فِي جُذَاذِه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص خواب میں میری زیارت کرے وہ سمجھ لے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار کر ہی نہیں سکتا اور مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھالیسواں جزو ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6994، م: 2264
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6994، م: 2264
حدیث نمبر: 13850 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ: إِنْ يَعِشْ هَذَا، فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا " جس کا نام محمد " بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا ہو تو سکتا ہے کہ اس پر بڑھاپا آنے سے پہلے ہی قیامت آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953
حدیث نمبر: 13851 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤَ، وَكَانَ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، وَمَا مَسِسْتُ دِيبَاجًا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا قَطُّ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رِيحِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا، پسینہ موتیوں کی طرح تھا، جب وہ چلتے تو پوری قوت سے چلتے تھے، میں نے کوئی عنبر یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330
حدیث نمبر: 13852 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ: خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان الا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2944، م: 382
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2944، م: 382
حدیث نمبر: 13853 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رُقَيَّةَ لَمَّا مَاتَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ اللَّيْلَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی قبر میں ایسا شخص نہیں اترے گا جو رات کو اپنی بیوی سے بےحجاب ہوا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد وهم حماد بن سلمة فى هذا الحديث، فسمي ابنة رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم هنا رقية، والصواب أنها أم كلثوم
الحكم: إسناده صحيح، وقد وهم حماد بن سلمة فى هذا الحديث، فسمي ابنة رسول الله ﷺ هنا رقية، والصواب أنها أم كلثوم
حدیث نمبر: 13854 مسند احمد
عَفَّانٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ أُنَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَهُ بِاللَّيْلِ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ، فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَالْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُمْ، فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ أَبْلِغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: فَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحِهِ حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" إِنَّ إِخْوَانَكُمْ الَّذِينَ قُتِلُوا، قَالُوا لِرَبِّهِمْ: بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا، أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ کو بھیج دیا جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے، یہ لوگ رات کو قرآن پڑھتے تھے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر بیچتے اور ان سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانا خرید کر لاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، لے جانے والوں نے انہیں متفرق کر کے اپنے علاقے میں پہنچنے سے پہلے ہی شہید کردیا، وہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا، اسی اثناء میں ایک آدمی حضرت حرام رضی اللہ عنہ " میرے ماموں " کے پاس پیچھے سے آیا اور ایسا نیزہ مارا کہ آر پار کردیا، وہ کہنے لگے رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے بھائی جو شہید ہوگئے ہیں، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4092، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4092، م: 677
حدیث نمبر: 13855 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى، ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اس میں جگہ زائد بچ جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13855]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7384 معلقا، م: 2848
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7384 معلقا، م: 2848
حدیث نمبر: 13856 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6203، م: 2310
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6203، م: 2310
حدیث نمبر: 13857 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3187
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3187
حدیث نمبر: 13858 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا رَأَيْتُ شَعْرًا أَشْبَهَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَعَرِ قَتَادَةَ"، فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمہ اللہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13859 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کسی دن دوپہر اور رات کے کھانے میں روٹی اور گوشت جمع نہیں ہوئے، الاّ یہ کہ کبھی مہمان آگئے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13860 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ" يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، فَأَجَابَهُ"، وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا: أَنَّ خَيَّاطًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر دعوت کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13861 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ أَنَسٌ :" مَا أَعْرِفُ فِيكُمْ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ قَوْلَكُمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں جو چیزیں میں نے دیکھی ہیں، آج ان میں سے ایک چیز بھی نہیں دیکھتا سوائے اس کے تم " لا الہ الا اللہ " کہتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ! کیا ہم نماز نہیں پڑھتے؟ فرمایا تم غروب آفتاب کے وقت تو نماز عصر پڑھتے ہو، کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز تھی؟ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ تمہارے اس زمانے سے بہتر زمانہ کسی عمل کرنے والے کے لئے میں نے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ وہ نبی کا زمانہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13861]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماسلف برقم: 11977
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماسلف برقم: 11977