بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 62 از 109
حدیث نمبر: 13162 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرُ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ شَرُّ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ لَهُ: أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ نَعَمْ، فَيَقُولُ: كَذَبْتَ، قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا؟ وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسیوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہو گا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، سلف الشطر الأول برقم: 12342، والثاني برقم: 12289.
الحكم: إسناده صحيح، سلف الشطر الأول برقم: 12342، والثاني برقم: 12289.
حدیث نمبر: 13163 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي دُعَائِهِ:" اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِثَابِتٍ: أَسَمِعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690.
حدیث نمبر: 13164 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ نَحَرَ الْبُدْنَ، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ: وَوَصَفَ هِشَامٌ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ فَحَلَقَ أَحَدَ شِقَّيْهِ، الْأَيْمَنَ، وَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَلَقَ الْآخَرَ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کرچکے تو سینگی لگوائی اور بال کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو وہ عام لوگوں کو دے دیئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1305.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1305.
حدیث نمبر: 13165 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13165]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680.
حدیث نمبر: 13166 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، قَالَا: سَمِعْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة عبد العزيز ابن صهيب، وأما متابعة على بن فريد بن جدعان فضعيف، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح من جهة عبد العزيز ابن صهيب، وأما متابعة على بن فريد بن جدعان فضعيف، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13167 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورًا ، سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7153، م: 2639.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7153، م: 2639.
حدیث نمبر: 13168 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا عَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَلَا الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: أَوَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ مَا صَنَعَ الْحَجَّاجُ فِي الصَّلَاةِ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور باسعادت پایا ہے، آج اس میں سے کوئی چیز مجھے نظر نہیں آتی، ابو رافع نے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! نماز بھی نہیں؟ فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حجاج نے نماز میں کیا کچھ کردیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13168]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن سعد البصري، وقد صح الحديث من غير ما طریق عن انس، انظر ما سلف برقم:11977
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن سعد البصري، وقد صح الحديث من غير ما طریق عن انس، انظر ما سلف برقم:11977
حدیث نمبر: 13169 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ فَأَخَذَ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ يَقُولُ: ذَلِكَ مِرَارًا:" مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ، وَلَا صَاعُ حَبٍّ" وَإِنَّ عِنْدَهُ تِسْعَ نِسْوَةٍ حِينَئِذٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے۔ اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2069.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2069.
حدیث نمبر: 13170 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13170]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:200
الحكم: إسناده صحيح، م:200
حدیث نمبر: 13171 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ، عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا، ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْجَهَنَّمِيُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7450.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7450.
حدیث نمبر: 13172 مسند احمد
روح ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا، وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
حدیث نمبر: 13173 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا، قَالَتْ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ثَلَاثًا، قَالَتْ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے، جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13174 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ أَفْطَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1141، م:1158
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1141، م:1158
حدیث نمبر: 13175 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَأَسْكِنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، سکون دلایا کرو، نفرت نہ پھیلایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 69، م:1734
الحكم: إسناده صحيح، خ: 69، م:1734
حدیث نمبر: 13176 مسند احمد
رَوْحٌ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا بُنَيَّ، إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ، فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور بغیر اجازت لئے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں چلا جایا کرتا تھا، ایک دن حسب معمول میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹا! اللہ کی طرف سے نیا حکم آگیا ہے اس لئے اب اجازت لئے بغیر اندر نہ آیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13176]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
حدیث نمبر: 13177 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أنَّ رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال:" لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ"، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ إِلَيْهِ، وَقَالَ رَوْحٌ عَلَيْهِ لَأَجَبْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے کہیں سے ہدیہ میں بکری کا ایک کھر آئے تب بھی قبول کرلوں گا اور اگر صرف اسی کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13178 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ سورة الأعراف آية 143 قَالَ: فَأَوْمَأَ بِخِنْصَرِهِ، قَالَ: فَسَاخَ.
حدیث نمبر: 13179 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559.
حدیث نمبر: 13180 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559.
حدیث نمبر: 13181 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ ، مَدِيني، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فقَالَ: صَلَّيْتُمْ؟ يَعْنِي الْعَصْرَ، قَالُوا: نَعَمْ، قُلْنَا: أَخْبِرْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّيهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وردان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اہل مدینہ کے ایک وفد کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا اور پوچھا کہ یہ بتائیے " اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ عمدہ سلوک کرے " کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ نماز کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج روشن اور صاف ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.